نئی دہلی20مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہم نے اکثردیکھاہے کہ شکست کے بعدکئی سیاسی پارٹیوں کے اندر ہی گھمسان شروع ہو جاتا ہے۔جیسا کہ ہم عام آدمی پارٹی میں ان دنوں دکھائی دے رہاہے لیکنMCDانتخابات میں بھاری کامیابی کے بعد بھی دہلی بی جے پی کے اندر زبردست کشیدگی چل رہی ہے۔یہ جنگ دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری اور وجے گوئل کے درمیان چل رہی ہے۔یہ لڑائی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ مرکزی تنظیم وزیررام لال نے دہلی کی تنظیم وزیر سددھارتھن کومعاملہ ٹھنڈا کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔خیمے بازی توپہلے سے ہی چل رہی تھی۔ذرائع کی مانیں تو جنگ کھل کر تب سامنے آ گئی جب وجے گوئل نے 16تاریخ کو نو منتخب کونسلر کے لئے اعزازکی تقریب منعقدکی۔منوج تیواری نے اعزازی تقریب میں خودآنے سے انکارکر دیا۔اتناہی نہیں تنظیم کا پروگرام نہ ہونے کی بات کہہ کر کونسلر کو بھی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔ذرائع کی مانیں وجے گوئل کے پروگرام میں جیتے ہوئے 184کونسلر میں سے صرف 26-30کونسلر ہی پہنچے جس جے پرکاش، شکھا رائے، ندنی شرما ہیں۔ذرائع کے مطابق طپہلے منوج تیواری کوبتایاگیاتھاکہ پروگرام نہرویوتھ سینٹر کا ہے اس لئے انہوں نے حامی بھردی تھی لیکن جب انہیں پتہ چلاکہ وجے گوئل کونسلر کااعزازکریں گے توانہوں نے پروگرام میں حصہ لینے سے انکارکردیا۔میڈیا کو بھی پہلے یہ پیغام دیاگیاتھا۔لیکن منوج تیواری کے جواب کے بعداس پروگرام کا نام ”سلم تحریک“کر دیاگیا جہاں کونسلرکوایک کچی آبادی گودلینے کی بات کہی گئی۔این ڈی ٹی وی کو ملی معلومات کے مطابق منوج تیواری نے ذاتی پیغام بھیج کر بھی وجے گوئل کو انہیں دوسرے پروگرام کا نام لے کرمدعوکرنے کی بات کہی۔منوج تیواری نے وجے گوئل کی شکایت اعلیٰ کمان سے بھی کی ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ منوج تیواری نے اپنی حمایت میں دلیل رکھا ہے کہ مرکزمیں وزیراورراجستھان سے راجیہ سبھاممبرپارلیمنٹ ہونے کے باوجودوجے گوئل ریاست میں جیتے ہوئے کونسلرکے اعزازکرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔پہلے بھی وجے گوئل کے اوپردہلی کے بی جے پی کی تنظیم میں مداخلت کرنے کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں لیکن اس بار منوج تیواری نے وجے گوئل کے خلاف محاذکھول دیاہے۔منوج تیواری کی قیادت میں ہی بی جے پی نے کارپوریشن میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی ہے۔